Nazryat kay Zindagi par Asraat/GENERAL ARTICLES

نظریات کے زندگی پر اثرات

Brain, Think, Psychology, Trees

’’دنیا کے تمام انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کی وجہ ان کا اپنا دماغ ہوتا ہے۔‘‘
اگر کوئی قابل حکیم یا ڈاکٹر آپ کو بتادے کہ آپ فلاں مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور آپ ان کی بات پر یقین کرلیں تو اگر حقیقت میں آپ کو وہ بیماری نہ بھی لگی ہو تب بھی اپنے یقین کی وجہ سے آپ اس بیماری میں مبتلا ہوجائیں گے۔
یہ نظریہ یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہر حیاتیات ڈاکٹر بروس لپٹن کا ہے جو گزشتہ 20 سال سے انسانی جینز پر ریسرچ کررہے ہیں او ر اپنی ریسرچ سے بہت ہی حیرت انگیز اور دلچسپ حقائق دنیا کے سامنے لائے ہیں۔ان کے مطابق انسان کے سوچنے کا انداز اور طرزِ فکر اس کی جسمانی تبدیلیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم جس چیز پر یقین کرلیتے ہیں وہ ہمارے جسم کے اندر اور باہر ضرور اثر کرتی ہے اور اسی طرح تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔ڈاکٹر بروس کے مطابق انسانی زندگی کی گاڑی کا اسٹیرنگ اس کے ’’یقین ‘‘ کے ہاتھوں میں ہے اور وہی گاڑی کو چلاتاہے۔

ڈاکٹر بروس کی وجہ شہرت ان کی مشہور ریسرچ ’’Biology of Belief‘‘ہے جو کہ جینیاتی ارتقا اور زندگی کی فطرت پر بحث کرتی ہے ۔یہ بتاتی ہے کہ دنیا کے بارے میں ہمارے نظریات بوسیدہ ہوچکے ہیں۔اصل حقائق ان کے علاوہ ہیں جن میں بہت سارے رازوں پراب بھی پردہ پڑا ہو اہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ20ویں صدی میں فزکس کے میدان میں تو بہت ساری ترقی ہوئی لیکن بیالوجی کے شعبے میں کچھ حوصلہ افزا کام نہیں ہوا۔

خلیاتی ماہر حیاتیات (Cellular Biologist)کے طورپر ڈاکٹر بروس لپٹن انسانی حیات کو سمجھنے پر زور دیتا ہے اور چارلس ڈارون اور اس سے کچھ دہائیاں قبل جین باپٹس نے انسانی ارتقا کے متعلق جو تھیوریز پیش کی تھیں ،اُن پر بحث کرتے ہوئے کسی حدتک انہیں غلط ثابت کرتا ہے ،وہ کہتا ہے:’’ ہر انسان کا یہ خیال ہے کہ اس کی زندگی اور جسمانی خصوصیات کا انحصار اس کے’’ جینز‘‘ پر ہوتا ہے اور اس تصور کے نتیجے میں تمام لوگوں کایہ یقین ہے کہ ان کی صحت ، نفسیات ، روئے اور بیماریاں دراصل ان کے جینز میں شامل ہوتی ہیں یعنی والدین کی طرف سے موروثی طور پر انہیں ملتی ہیں لیکن یہ تصور درست نہیں ۔خلیہ ’’Cell‘‘کے اندر موجود زندگی اور خصوصیات کا انحصار بنیادی طورپر انسان کے ماحول پر ہوتا ہے ۔جینز صرف مالیکیولز بلیو پرنٹ ہوتے ہیں جو کہ خلیوں’’Cells‘‘کی تشکیل کا کام دیتے ہیں ،جبکہ ماحول ایک بڑے عامل کے طور پرجینز کے ان بلیو پرنٹس کومتاثر کرتاہے۔

ماحو ل کا انسانوں پر اثر
ڈاکٹر بروس کے مطابق انسانی شخصیت بنانے میں ’’ جینز‘‘کا عمل دخل معمولی ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ بنتے ہیں ہمارا ماحول ہی ہمیں بناتا ہے اور ماحول بلکہ زندگی کے شروع کے ایام خصوصی طورپر ہمارے جینز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کے مطابق والدین اور ماحول بچے پر رحم مادرمیں ہی اثرانداز ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔جو رویہ یا سوچ والدین اور خصوصی طورپر والدہ کی ہوگی وہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے پر اثر کرے گی۔اسی وجہ سے ماں کی خوراک ، ماحول اور اس کے جذبات و احساسات جن کا اسے سامنا ہوتا ہے،اس کا براہ راست اثر بچے پر پڑتا ہے۔بچہ پیدا ہونے کے بعد والدین جس طرح کا سلوک بچپن میں اس کے ساتھ کرتے ہیں،بچے کی باقی زندگی اس کے مطابق ہوتی ہے ۔مثال کے طورپر اگر بچہ بچپن میں بارباریہ سنے کہ’’ تم بدتمیز یا نالائق ہو ‘‘تو اس کا اپنے بارے میں شخصی تاثر یہی بن جاتا ہے اور پھر وہ ویسی ہی کارکردگی دِکھاتا ہے۔


Boy, Child, Cry, Mouth, Game, Net, angry

انسان کوچلانے والی ایک مضبوط قوت
ڈاکٹربروس لپٹن کے مطابق ہمارے شعور میں ایک مضبوط قوت موجود ہے جس کا نام Placebo effect ہے۔یہ مثبت خیالا ت کی بہت طاقتور انرجی ہے۔یہ اس قدر طاقتور ہے کہ اس کی مدد سے انسان اپنی بیماری کا علاج خودکرسکتاہے۔حتیٰ کہ پانی کے ایک گلاس کے بارے میں بھی اگر کسی انسان کا یقین ہو کہ یہ اس کی بیماری کا یقینی علاج ہے تو اس کو شفاء مل سکتی ہے ۔یہاں قابل غور چیز پانی کا گلاس نہیں ،بلکہ انسان کے وہ نظریات ہیں جو اس نے مضبوط انداز میں قائم کیے تھے۔ان خیالات کا منفی پہلو بھی ہے کہ اگر کسی انسان کا یقین ہے کہ وہ ایک بیماری سے مرسکتا ہے تو وہ یقینا مرے گا۔ڈاکٹر بروس مزید کہتے ہیں :اگر ہم اپنے خیالا ت و تصورات کو تبدیل کرلیں تو ایک جینزمیں اتنی طاقت ہے کہ وہ کینسر جیسے مرض کو پیدا کرسکتا ہے یا پیدا ہونے کی صورت میں اس سے لڑسکتا ہے۔

اپنا علاج ،خود کریں
ایک اور حیرت انگیز بات ڈاکٹر بروس لپٹن کی یہ ہے کہ اگر انسان Epi-geneticsکو سمجھ لے تو وہ بڑی حد تک اپنے آپ کو تبدیل کرسکتا ہے اور یہاں تک کہ اگر وہ بیمار ہوجائے تو اس کو دوائی لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ان کے بقول پروزاک ڈرگ جس پر دنیا بے تحاشا پیسہ خرچ کرتی ہے ،درحقیقت یہ صرف 3فی صد لوگوں کے لیے کارآمد ہے ہر ایک کے لیے نہیں ۔جب آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کا علاج دوائی سے کرتا ہے اور دوائی کھانے پر زور دیتا ہے ،حالانکہ ڈاکٹر کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مریض کو تسلی تشفی دے کر اس کے یقین کو درست کرے تا کہ اس کا مدافعتی نظام مضبوط ہواور وہ بیماری کے سامنے کمزور واقع نہ ہو،کیونکہ بیماری کے بارے میں تشویش اور تناؤ ایسی چیز ہے جوانسان کے قوتِ مدافعت کو بالکل ہی کمزور کردیتا ہے،جس سے انسان بیماری کا شکار ہوجاتا ہے ،لیکن ڈاکٹرز ایسا کرتے نہیں۔

دوسری طرف آپ دیکھیں تو میڈیاپر ہر دس منٹ کے بعد ایک دوائی کا اشتہار ضرور چلتا ہے جس میں بتایاجاتا ہے کہ جن افراد نے یہ دوائی استعمال کی ان کی زندگی خوشحال ہے ۔لوگ اس بہکاوے میں آکر احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔وہ دوائی خریدتے ہیں تاکہ میڈیا میں دکھائے جانے والے فرد کی طرح خوشحال اور صحت مند ہوں ،جبکہ درحقیقت یہ دوائی ان کی صحت کو مزید خراب کرنے کا باعث بنتی ہے ۔


Close-Up, Drugs, Medical, Medicine

ڈاکٹر بروس کے مطابق لوگوں کو دوائیوں کی عادت سے جتنا بچائیں گے ،اتنی ہی ان میں بیماری کم پیدا ہو گی اور اس کے لیے ضروری چیز یہ ہے کہ لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کیا جائے کہ وہ صرف دوائیوں پر انحصار نہ کریں بلکہ اپنے قوتِ مدافعت کو بھی بڑھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں اپنے یقین کو مضبوط کریں۔ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ 50 فیصد خواتین ایسی ہیں جن کے جینز کینسر کو قبول ہی نہیں کرتے یعنی وہ کینسر میں مبتلا نہیں ہوسکتیں مگر جذبات ،غصہ ،خاص ماحول اور تناؤ ان کے جسم میں ایسے کیمیکلز پیدا کردیتے ہیں جو کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔

انسان کی عادات
آپ کا رویہ کیسا ہے ؟آپ کی عادات کیا ہیں اور آپ کا طرزِ زندگی کس طرح ہے؟ یہ سب آپ کے جینز بناتے ہیں اور جینز بھی ماحول سے اثرلیتے ہیں۔اس وجہ سے زندگی کے پہلے سات سال انسان کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس عمر کے تمام واقعات، حالات اور دیے جانے والے نظریات انسان کے تحت شعور(Sub-conscious )میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔بہت سارے رویے انسان اپنی والدہ سے لیتا ہے ،اور والدہ نے اپنی والدہ سے لیے ہوتے ہیں۔اسی عمر میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا امیری ،غریبی کا تصور ان کی شخصیت کو خراب کرتا ہے ۔فیملی بیک گراونڈ بھی اس عمر میں زیادہ اثرانداز ہوتا ہے ۔ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کے 95 فی صد عادات و اطوار ان نظریات پر مشتمل ہوتے ہیں جو اس کے تحت شعور میں محفوظ ہوتے ہیں اورہ وہ ساری زندگی ان کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔یہ تمام وہ عادات ہوتی ہیں جن کو کرنے کے لیے انسان کو سوچنا نہیں پڑتا بلکہ بے ساختہ کرتا ہے ،جیسا کہ اپنے انداز میں چلنا اور باتیں کرنا ،وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں عادات میںبدل جاتی ہیں۔باقی رہے 5 فیصدکام تو ان کے لیے انسان کو اپنے شعوری ذہن (Conscious Mind)سے کام لینا پڑتا ہے جیسا کہ پیسوں کا حساب کتاب یا پہلی بار گاڑی چلانا۔

Sub-conscious
مائنڈ کی ری پروگرامنگ
یہ بات حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی اس کے تحت شعوری(Sub-conscious)رویوں اور عادات کا ایک پرنٹ آوٹ ہے، یعنی جو جو چیزیں وہاں موجود ہوتی ہیں ان کی عملی اشکال انسان کے عادات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔اپنے تحت شعور کی پروگرامنگ پر کام کرکے اپنے تمام رویوں اور عادات کو بدلا جاسکتا ہے۔جس کا آسان طریقہ اپنے نظریات اور یقین کو پرکھ کر بوسیدہ نظریات کو ختم کرنا اور نئے افکار بنانا ہے۔ڈاکٹر بروس لپٹن کے مطابق ،اگر انسان اپنا ماحول تبدیل کرلے تو وہ اپنے جینز کو منظم کرسکتا ہے.

▪ڈاکٹر بروس کے نزدیک ، جین اپنے آپ کو ’’آن‘‘ یا ’’آف‘‘ نہیں کرسکتے ۔جین میں زندگی کو کنٹرول کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی ،اسی وجہ سے یہ ماحول پر منحصر ہوتے ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ Epi-geneticکا مطالعہ کیا جائے اور اس بات کو پہچانا جائے کہ بیرونی ماحول میں کون کون سے عوامل ہیں جو ہمارے جینز پر اثرانداز ہورہے ہیں.

▪رات کو سونے سے قبل کا وقت تحت شعور کی پروگرامنگ کے لیے بہترین ہے ۔آپ جو بھی چیز اپنے تحت شعور میں ڈالنا چاہتے ہیں اسی کو سوچتے سوچتے سوجائیں.

ٍ▪عمل تنویم (Hypnosis)سے بھی اپنے تحت شعور کو کنٹرول کرکے نئی چیزیں پیدا کرسکتا ہے۔


Levitation, City, Flying, Jump, Vibrant, Action

▪مراقبہ (Meditation)ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی سوچوں کو ترتیب میں لے آتا ہے ۔اس کے ذریعے تحت شعور کو بہتربنایا جاسکتا ہے۔

▪بار بار کی مشق سے چیزیں تحت شعور میں چلی جاتی ہیں ۔جو عادات و اطوار خود میں پیدا کرنے ہوں ،ان کی زیادہ سے زیاد ہ مشق کریں۔
ڈاکٹر بروس لپٹن کی اس تحقیق سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے،کیونکہ انہوں نے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ قابل یقین ہیں اور اگران کو عمل میں لایا جائے تو ہر انسان کی زندگی میں ایک خوش گوار انقلاب آسکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments