Oumru Ayaar aur Churrailon ki Wadi(Part-1)/SHORT STORIES

🔥عمرو اور چڑیلوں کی وادی🔥
پارٹ 1 

city lights on mountain during night time, valley

💥عمرو عیار کا یہ روز کا کام تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد صبح کی سیر کے لیے جنگل میں آجاتا تھا اور کافی دیر جنگل کی سیر کرنے کے بعد واپس اپنےگھر آجاتا تھا۔
🌄اس وقت بھی عمرو اپنے گھوڑے پر سوار جنگل کی سیر کر کے واپس اپنے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ مشرق سے سورج طلوع ہو چکا تھا جس کی روشنی آہستہ آہستہ پھیلتی جا رہی تھی۔
عمرو اپنی ہی دھن میں میں آگے جا رہا تھا کہ یکدم اسکی نظرایک درخت کے قریب اوندھے منہ لیٹے ہوے آدمی پر پڑی تو عمرو نے اپنے گھوڑے ٹانگو کو رکنے کا اشارہ کیا۔
ٹانگو گھوڑے کے رکتے ہی عمرو نیچے اتر آیا اور اس درخت کی طرف بڑھنے لگا جس کے نیچے وہ آدمی لیٹا ہوا تھا۔قریب جا کر عمرو نے اسے سیدھا کیا تو اگلے ہی لمحے وہ حیران رہ گیا
وہ آدمی بوڑھا اور بہت زخمی تھا۔اس کے سر سے خون بہہ کر اس کے چہرے پر جم چکا تھا۔وہ زخمی ہونے کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔اس نے اپنی آنکھیں کھول کر عمرو کی طرف دیکھا۔عمرو نے اسے سہارا دے کر بٹھایا اور اپنی زنبیل سے کپڑا نکال کر اس نے اس بوڑھے کے منہ سے خون صاف کیا اور پھر مرہم پٹی لگادی۔
"بابا۔تم کون ہو اور تمھاری اسیی حالت کس نے کی"۔عمرو نے اسے پوچھا۔
"وہ۔وہ"بوڑھے نے خوفزدہ کرتے ہوے کہا۔
"ہاں۔ہاں بتاؤ"عمرو نے کہا لیکن وہ عمر کا جواب دینے کی بجاۓ ادھر اودھر دیکھنے لگا۔
"مجھے ان بھیانک چڑیلوں نے زخمی کیا ہے جو ابھی یہاں کھڑی تھیں۔"بوڑھے آدمی نے بتایا۔
چڑیلوں کا سن کر عمرو حیران ہوگیا۔اس نے ابھی ادھر اودھر دیکھا لیکن اسے اس جگہ کوئی چڑیل دکھائی نہ دی۔
"یہاں تو کوئی چڑیل دکھائی نہیں دے رہی بابا۔"عمرو نے بوڑھے آدمی کو دیکھتے ہوے کہا۔

"وہ تینوں چڑیلیں ابھی یہاں تھیں۔تم۔تمچلے جاؤ ورنہ وہ تمہیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔"بوڑھے آدمی نے اس بار پھر خوفزدہ ہو کر کہا۔ 
وہ چڑیلیں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں بابا۔تم مجھے بتاؤ۔ وہ چڑیلیں کون ہیں؟

اور انہوں نے تمہیں کیوں زخمی کیا ہے۔پریشان مت ہو۔میں تمھارا دوست ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوسکا تو میں تمھاری مدد ضرور کروں گا۔عمرو نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔بوڑھا آدمی تھوری دیر اسے پریشانی سے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چڑیلیں بہت ظالم اور شیطان ہیں۔انہوں نے ہماری پوری بستی کو تباہ کر ڈالا ہے۔میرا نام ساگر ہے۔اور میں اپنی بستی کا سردار ہوں۔ہماری بستی اس جنگل میں دائیں طرف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن پہلے تین چڑیلیں ہماری بستی میں آگئی تھیں۔اور انہوں نے ہمارے اور نوجوانوں کو اٹھانا شروع کردیا۔
ہر روز وہ کسی نہ کسی نوجوان اور بچوں کو اٹھا کر لے جاتی تھیں۔۔۔۔۔

ہمارے نوجوانوں نے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں ختم کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔۔۔۔۔

اب میرے حکم پر بستی کے لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے جنگلوں میں جا کر چھپ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ تینوں چڑیلیں ہمیں تلاش کرتی پھر رہی ہیں۔اتفاق سے انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور مجھے پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگا اور بھاگتے بھاگتے مجھے ایک زور دار ٹھوکر لگی ۔جس کی وجہ سے میں ایک درخت سے ٹکر کھا کر گرگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں چڑیلیں ہوا میں اڑ سکتی تھی
بوڑھے ساگر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔جسے سن کر عمرو کے چہڑے پر غصہ آگیا۔اسے ان چڑیلیوں پر بہت غصہ آرہا تھا۔جنہوں نے بستی کے لوگوں پر ظلم ڈھا رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمرو چونکہ ایک رحم دل اور حمدرد انسان تھا اسکی زیادہ کوشش ہوتی تھی۔کہ جہاں ظلم دیکھےتو اسکو ختم کر دے۔۔۔۔۔۔۔

عمرو نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ ان چڑیلیوں کا خاتمہ کرکے بستی والوں کو ان سے نجات دلائے گا۔
بابا۔کیا تمھیں معلوم ہے کہ وہ چڑیلیں کہاں رہتی ہیں؟
عمرو نے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں۔ مگر اتنا پتا ہے کہ وہ شمال کی طرف سے اتی ہیں اور اسی طرف لوٹ جاتی ہیں۔بوڑھے ساگر نے بتایا۔۔۔
ہوں ۔میں ان خبیث چڑیلوں کو اسی سزا دوں گاکہ ان کی آنے والی نسلیں بھی کسی کو نقصان دینے کا سوچ بھی نہیں سکیں گی۔عمرو نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم ان چڑیلوں کا مقابلہ کروگے ۔بوڑھے ساگر نے حیرانی سے کہا۔
ہاں۔بابا میں ان چڑیلوں کا خاتمہ کرنے جارہا ہوں۔اور جلدی ہی ان کی موت کی خبر سنانے آؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر تم ہو کون۔بوڑھے نے حیرانی سے پوچھا؟؟

              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ واپس آکر بتاؤں ۔کہ میں کون ہوں۔۔پھر عمرو نے بوڑھے ساگر سے اجازت مانگی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف روانہ ہوگیا۔
تھوڑی دور جانے کے بعد عمرو گھوڑے کو روک کر نیچے اترا اور اس نے زنبیل سے سلیمانی تختی نکالی۔اور ان چڑیلوں کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت سلیمانی تختی پر لکھے الفاظ آگئے۔۔۔
لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

  کہ جنگل کے ختم ہوتے ہی ایک پہاڑی علاقہ شروع ہوتا ہے اس پہاڑی علاقے کے اخر پر ایک وادی ہے۔جو چڑیلوں کی وادی کے نام سے مشہور ہے۔وہ تینوں چڑیلیں اس وادی میں رہتی ہیں۔
عمرو نے اثبات میں سر ہلایا دیا اور سلیمانی تختی واپس زنبیل میں رکھ دی اور پھر وہ گھوڑے پر سوار ہو کر اسے تیزی سے دوڑانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگل کے اخر پر پہنچ کر عمرو نے اپنے گھوڑے کو وہیں چھوڑ دیا اور خود پیدل ہی پہاڑی علاقے کی طرف بڑھنے لگا۔
وہاں پر بلند و بالا پہاڑ ہی پہاڑ تھے

عمرو کافی دیر تک پیدل ہی چلتا رہا۔پھر کافی دیر بعد اخر وہ چڑیلوں کی وادی میں پہنچ ہی گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمرو ایک بڑی سی چٹان کے پیچھے چھپ کر چڑیلوں کی وادی کو غور سے دیکھنے لگا۔اسے کوئی چڑیل دکھائی نہیں دے رہی تھی۔لیکن دیو بہت زیادہ نظر آرہے تھےجو ادھر اودھر پھیلے ہوے تھے۔گویا وہ وادی کی حفاظت کر رہے تھے۔
عمرو وادی کے اندر جانے کی کوئی ترکیب سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ترکیب اس کے ذہن میں اتے ہی عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا۔اور خود کو ایک خوفناک چڑیل کی شکل میں بدلنے لگا۔چڑیل کا بھیس بدلنے کے بعد 

عمرو چٹان کے پیچھے سے نکلا اور وادی کی طرف جانے لگا۔وادی میں موجوددیو اسے حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

جاری ہے ---

دوسری قسط کے لے اس لنک پر کلک کریں 

Post a Comment

0 Comments