🔥عمرو اور چڑیلوں کی وادی🔥
پارٹ 2
عمرو ایک دیو کے قریب پہنچ کر رک گیا۔
کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چڑیلوں کی وادی میں ملکہ چڑیل کی اجازت کے بغیر اندر انا منع ہے۔
اس دیو نے عمرو کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
معلوم ہے بھائی دیو۔میں ملکہ چڑیل کو ایک بات بتانے آئی ہوں۔۔۔
میرا نام شتوری ہے کیا تم مجھے ملکہ چڑیل تک پہنچا دو گے۔
عمرو نے زنانہ آواز میں کہا۔!!!
کیا بات بتانا چاہتی ہو مجھے بتادو میں ملکہ چڑیل کو بتا دوں گا۔میں دیووں کا سردار ہوں۔۔
اسنے دیو سے کہا ۔۔۔۔
میں کیوں بتاوں۔میں تو یہ بار صرف ملکہ چڑیل کو ہی بتاؤں گی۔تاکہ میں ان سے انعام لے سکوں۔اور سنو!!!!!!
اگر تم نے مجھے ملکہ چڑیل تک نہ پہنچایا۔تو میں ملکہ چڑیل سے تمھاری شکایت کروں گی۔پھر تم سزا لینے کے لیے تیار رہنا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ کیا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شتوری چڑیل کو محل میں نہ پہنچایا تو وہ اسے زندہ زمین میں دفن کردے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
کس سوچ میں پڑ گیے بھائی دیو۔عمرو نے اسے سوچ میں پڑے دیکھ کر کہا!!!!!!
جاؤ۔ملکہ چڑیل کا محل دائیں جانب لال پہاڑ کے پاس ہے۔سردار دیو نے ملکہ چڑیل کے محل کا پتا بتاتے ہوئے عمرو سے کہا!
عمرو نے ہاں میں سر ہلایا دیا اور پھروہ اگے بڑھنے لگا۔وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہو رہا تھا۔کہ اس نے کتنی اسانی سے سردار دیو کو الو بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دیو عمرو کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔عمرو ان کی پروا کیے بغیر اگے برھتا چلا گیا۔
تینوں چڑیلوں نے اس وادی میں تھکانا بنا رکھا تھا۔جو چڑیلوں کی وادی سے مشہور ہو چکی تھی سب سے بڑی ملکہ چڑیل تھی ۔انہوں نے وادی کی حفاظت کے لیے دیو رکھے ہوئے تھے۔
اور کوئی بھی ملکہ چڑیل کی اجازت کے بغیر اندر نہیں آسکتا تھا۔لال پہاڑ کے قریب جا کر عمرو نے دیکھا کہ لال پہاڑ کے ساتھ ایک بڑا سا محل بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کا دروازہ کھلا تھا ۔عمرو اندر چلا گیا۔اسی وقت ایک موٹی کالی چڑیل کمرے سے باہر نکلی۔اس نے جب عمرو کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔
کون ہو تم اور کس سے ملنے ائی ہو ۔اس کالی چڑیل نے حیرانی سے پوچھا!!!!
میرا نام شتوری چڑیل ہے ۔اور میں ملکہ چڑیل سے ملنے ائی ہوں۔عمرو نے زنانہ انداز میں کہا۔
مگر تم وادی کے اندر کسے ائی۔ملکہ چڑیل کی اجازت کے بغیر اندر انے والے کو ملکہ چڑیل آگ کے کنویں میں زندہ ڈال دیتی ہے۔کالی چڑیل نے کہا!!!!
اوہ! اب میں کیا کروں۔میں ملکہ چڑیل کے فائدے کی بات کرنے ائی ہوں۔اچھا سنو !میں تمھیں وہ بات بتا دیتی ہوں تم ملکہ چڑیل کق بتا دینا۔عمرو نے گھبراتے ہوئے لہجے میں کہا۔ پھر وہ اسے ایک طرف لے گیا۔اس نے ایک ہاتھ زنبیل میں ڈال کر بہوش کرنے والا سفوف نکالا ۔اس سے پہلے کہ کالی چڑیل عمرو سے کوئی بات کرتی۔عمرونے پھرتی سے وہ سفوف کالی چڑیل کے ناک پر چھڑک دیا۔اگلے ہی لمحے وہ کالی چڑیل بےہوش ہو کر گر پڑی۔عمرو اسے گھسیٹتےہوئے۔ایک کمرے میں لے گیا۔اور اس نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا اور خود کو اس کے بھیس میں بدل لیا۔اور اسے اپنا یعنی شتوری چڑیل میں بدل دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر عمرو ملکہ چڑیل کو ڈھونڈنے لگا۔
ایک کمرے میں اسے تین چڑیلیں دکھائی دی۔جو انتہائی بھیانک اور بدصورت تھیں۔
تینوں کی شکلیں بھی ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھی۔ان کی عمروں میں بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ کالی چڑیل کہاں مر گئی ابھی تک کھانا لے کر نہیں ائی۔ایک چڑیل نے غصے سے کہا جس کا نام تارو تھا۔
کالی چڑیل ۔کالی چڑیل سب سے بڑی عمر والی چڑیل نے کالی کو آواز دی جس کا نام چارو تھا۔۔عمرو جو دروازے کے پاس تھا فورا ہی اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں مر گئی تم کھانا لے کر کیوں نہیں ائی ۔تیسری چڑیل نے غصے بڑے لہجے میں کہا۔۔۔مم۔ میں ابھی اتی ہوں عمرو نے کالی چڑیل کی آواز میں گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ کمرے سے باہر ایا اور دوسرے کمرے میں گیا جہاں کھانا تیار رکھا ہوا تھا۔شاید کالی چڑیل کھانا لے جانے والی تھی۔
عمرو نے زنبیل سے زہریلا سفوف نکالا اور کھانے میں ملانا شروع کردیا۔کہ اسی وقت تارو چڑیل اس کے کمرے میں اگئی۔
اس نے عمرو کو کھانے میں سفوف ڈالتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
یہ تم کھانے میں کیا ملا رہی ہو کال چڑیل۔!تارو چڑیل نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر عمرو ڈر گیا۔۔زہریلے سفوف کی پریاں ہاتھ سے نکل کر زمین پر گر گئی۔۔۔۔
تاڑو چڑیل نے اگے جاکر وہ سفوف اٹھاکر سونگھا ۔اگلے ہی لمحے وہ سفوف ناک سے ہٹایا اور خطر ناک نظروں سے عمرو کو گھو رنے لگی۔
یہ طلسم ہوشربا کا خالص ہاضمہ چورن ہے جو میرا بھائی لایا تھا۔عمرو نے مسکرارتے ہوئے کہا۔
اگر یہ چورن ہے تو اسے کھانے میں کیوں ملا رہی ہو۔چورن تو کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے۔
وہ عمرو کو شک کی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یہ چورن صرف کھانے میں ملا کر کھایا جاتا ہے۔عمرو نے بات بناتے ہوئے کہا۔لیکن اسی وقت چڑیل نے اسے زوردار طمانچہ مار دیا۔عمرو کو دن میں تارے نظر انے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکواس کرتی ہو یہ چورن نہیں ۔زہریلا سفوف ہے۔اس نے غصے سے کہا
تارو چڑیل کیا بات ہے۔ کیا اج کھانا نہیں ملے گا اسی وقت چارو چڑیل نے اندر اتے ہوئے کہا!!!
چارو بہن یہ دیکھو ۔کالی چڑیل کے کارنامے۔یہ ہمارے کھانے میں زہریلا سفوف ملا رہی تھی۔
تاکہ ہم ختم ہو جائے۔اور یہ ہمارا خزانہ لوٹ سکے۔یہ سن کر چارو چڑیل کی آنکھوں میں حیرانی کے ساتھ غصہ پھیل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور عمرو کو گھورنے لگی
عمرو خود بھی بہت پریشان ہو گیا تھا۔واقعی وہ چڑیلیں بہت ہوشیار اور خطرناک تھیں۔۔۔۔۔
جاری ہے
تیسری قسط کے لے اس لنک پر کلک کریں
https://urdufactsoflife.blogspot.com/2020/07/oumru-ayaar-aur-churrailon-ki-wadipart_26.html
تیسری قسط کے لے اس لنک پر کلک کریں
https://urdufactsoflife.blogspot.com/2020/07/oumru-ayaar-aur-churrailon-ki-wadipart_26.html

0 Comments
kindly no spam comment,no link comment